ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جموں کشمیر کے سابق سی ایم عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا، دفعہ 370 ہٹانے کے بعد لیا گیا تھا حراست میں 

جموں کشمیر کے سابق سی ایم عمر عبداللہ 8 ماہ بعد رہا، دفعہ 370 ہٹانے کے بعد لیا گیا تھا حراست میں 

Tue, 24 Mar 2020 20:19:22    S.O. News Service

نئی دہلی،24/مارچ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کو تقریبا آٹھ ماہ بعد منگل کو حراست سے رہا کر دیا گیا۔ جنسرکشا قانون (پی ایس اے) کے تحت لگائے گئے الزام ہٹائے جانے کے بعد ان کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا۔

گذشتہ 10 مارچ کو 50 سال کے ہوئے عبداللہ نے گزشتہ سال پانچ اگست کو جموں کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے بعد 232 دن حراست میں گزارے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر کو پہلے احتیاطا حراست میں لیا گیا تھا، لیکن بعد میں پانچ فروری کو ان پر پی ایس اے لگا دیا گیا تھا۔ اسی مہینے عمر عبداللہ کی بہن سارہ عبداللہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر انتظامیہ سے پوچھا تھا کہ اگلے ہفتے تک بتائیں کہ عمر عبداللہ کو رہا کیا جا رہا ہے یا نہیں؟ ساتھ ہی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر آپ عمر عبداللہ کو رہا کر رہے ہیں تو انہیں جلد رہا کیجیے ورنہ پھر ہم حراست کے خلاف ان کی بہن کی درخواست پر سماعت کریں گے۔

غور طلب ہے کہ عمر عبداللہ کے ساتھ ہی پی ڈی پی سربراہ اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی بھی حراست میں ہیں۔ جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے کے بعد فاروق عبداللہ کے ساتھ ہی سینکڑوں رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ کو 13 مارچ کو رہا کیا گیا ہے۔ عمر عبداللہ کو بغیر کسی الزام کے حراست میں لیا گیا تھا، لیکن بعد میں حکومت نے ان پر پی ایس اے لگا دیا۔ ان کے ساتھ ہی فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے خلاف بھی پی ایس اے لگایا گیا تھا۔


Share: